زندگی میں وہ بھولا پن بھی تھا کہ جب مجھے لگتا تھا۔ لوگ جذبات کی قدر کرتے ہیں۔ اخلاص کے متلاشی ہیں۔ محبت کے بھوکے ہیں۔ وقت چاہتے ہیں۔ الفت کے پیاسے ہیں۔ میں مال و اسباب۔ مادیت پرستی سے کوسوں دور بھاگتا تھا۔ آج بھی مال و اسباب اور مادیت سے بیزار ہوں
مگر
زندگی کے اس سفر میں قدم قدم پہ ادراک ہوا۔ کہ میں غلط تھا۔ میں غلط ہوں۔ اور شاید ہمیشہ غلط ہی رہوں گا۔ ایسا نہیں کہ اوپر بیان کردہ خصلتیں صحیح نہیں۔ یا لوگ وہ نہیں مانگتے ہیں۔ مانگتے ہیں۔ چاہتے ہیں۔ وہ پیار جو برانڈز میں پیکڈ ہو۔ وہ جذبات جو زر و جواہرات میں گوندھے گئے ہوں۔ وہ الفت جو روپے پیسے کی عکاس ہو۔ وہ وقت چاہتے ہیں جو کاروں میں گزرے اور جو کون ہیڈز۔ مونال۔ فتح سٹور۔ ڈولمن مال۔ چین ون۔ فلیٹیز۔ کولاچی۔ جیسی جگہوں میں بسر ہو۔ وہ لمحات جو ناران سے شروع ہوں اور شنگریلا ریزورٹ میں اختتام پذیر ہوں۔
دنیا بدل گئی ہے۔ لیکن میرا من اب بھی اس ارتقا کو قبول نہیں کر پاتا۔ جو کبھی اپنے سنگی محسوس ہوتے تھے۔ وہ سبھی اچھے لوگ ہے اس میں شک نہیں۔ شاید میں ہی بڈھی روح ہوں سب کے بیچ۔ مجھے آج بھی پرانی کتب کی خوشبو مدہوش کر دیتی ہے۔ بعد بارش کے مٹی کی مہک لبھاتی ہے۔ چار چار سال پرانے سستے مادی لوازمات سکون دیتے ہیں۔ یوں تو دنیا کے ساتھ میرا سفر جاری ہے۔ مگر میرے من کی تھکان شاید کبھی نہ ختم ہو۔ میں اس سفر میں اکیلا ہی ہوں شاید۔ اکیلا ہی رہوں گا۔ شاید۔ یونہی اسی من کے تنہا سفر میں کہیں پہنچ بھی نہ پاؤں اور شاید اسی میں گزر جاؤں۔ شاید۔